کابل /اسلام آباد،22/نومبر(آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کی صبح مرکزی اور شمالی علاقوں میں ہونے والے راکٹ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے ہیں۔
کابل کے گرین زون میں، جہاں متعدد سفارت خانے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں، راکٹ حملے صبح نو بجے کے قریب کیے گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق افغانستان کے وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ان حملوں کا الزام طالبان پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے کل 23 راکٹ فائر کیے گئے۔
دوسری طرف طالبان کی طرف سے راکٹ حملوں سے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر حملے نہیں کرتے۔
ان حملوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی عسکری گروہ نے قبول نہیں کی۔
وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کا مزید کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کابل پولیس کے ترجمان کی طرف سے بھی راکٹ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گرین زون میں گرنے والا ایک راکٹ پھٹ نہ سکا۔
ایران کے سفارت خانے کا ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ سفارت خانے کی مرکزی عمارت راکٹ حملے سے متاثر ہوئی ہے۔ تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
راکٹ حملوں کے بعد آن لائن دستیاب ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں سے عمارتوں کی دیواریں اور کھڑکیاں متاثر ہوئی ہیں۔ جب کہ ایک میڈیکل کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
کابل میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے حملوں میں، جن میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے دو حملے بھی شامل ہیں، لگ بھگ 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کابل میں حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
افغان حکومت ان حملوں کا الزام طالبان پر لگاتی رہی ہے۔ جب کہ طالبان ان حملوں سے لا تعلقی کا اعلان کرتے رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان کا کابل میں ہونے والے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کابل کے دو تعلیمی اداروں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ‘داعش’ نے قبول کی تھی۔ تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں طالبان کا حقانی نیٹ ورک شامل تھا۔